بدھ, اکتوبر 7, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںوزیراعلی نے اتنی معافیاں مانگیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئیں، مولانا...

وزیراعلی نے اتنی معافیاں مانگیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہوگئیں، مولانا عبد الواسع

کوئٹہ :جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع نے کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ وزیراعلی بلوچستان نے اتنی معافیاں مانگ لی ہیں کہ اب معافیاں بھی بدنام ہو گئی ہیں۔مولانا عبد الواسع نے کہا کہ سینیٹر شکور غبیزئی اور رکن بلوچستان اسمبلی حاجی زابد ریکی کے نام ای سی ایل (ECL) میں ڈالے جاتے ہیں اور پھر حکومت کی جانب سے معذرت کر لی جاتی ہے، جس کا یہ طرزِ عمل مکمل طور پر سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان حکومت اور وزیراعلی یا تو مکمل طور پر بے اختیار ہیں یا پھر تمام فیصلے قسطوں میں کیے جا رہے ہیں۔ جن افسران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، ان کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں کیا جا رہا، اور محض معافی مانگنے سے سنجیدہ معاملات حل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے مدارس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے یاد دلایا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر بھی وزیراعلی نے معذرت کی تھی، تاہم تاحال حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کسی بھی واضح پیش رفت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ معدنیات سے متعلق قانون پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس معاملے پر اپوزیشن کو دھوکہ دیا، بعد ازاں بل واپس لینے کا اعلان تو کیا گیا مگر مسئلہ اب بھی جوں کا توں برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے حوالے سے اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں نے باہمی اتفاقِ رائے سے ایک جامع ڈرافٹ تیار کر کے جمع کرایا تھا، لیکن اس کے باوجود معاملات میں کوئی بہتری نہیں آئی۔جے یو آئی کے صوبائی امیر نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے مدارس اور معدنیات ایکٹ کے معاملات پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو جمعیت علمائے اسلام دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوگی، اور موجودہ بلوچستان حکومت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بلوچستان میں مبینہ طور پر نجی ملیشیا کی موجودگی پر بھی سخت اعتراض اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ اس پرائیویٹ ملیشیا کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے۔ مولانا عبد الواسع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس ملک کے اصل مالک عوام اور سیاست دان ہیں، حکمران نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ 17 نومبر سے بلوچستان کا تفصیلی دورہ شروع کریں گے اور عوام کے پاس جا کر ان کے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!