16 سالہ کم عمر مزدور بھی کان میں کام کرتے رہے، سی ایم آئی ٹی انکوائری رپورٹ
کوئٹہ :دو ماہ قبل کوئٹہ کے قریب سورینج میں پیش آنے والا کوئلہ کان حادثہ محض ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ سنگین غفلت، کمزور نگرانی اور مزدوروں کی زندگیوں کو نظر انداز کر کے صرف منافع کمانے کی سوچ کا نتیجہ نکلا ہے۔ مختلف اداروں اور سی ایم آئی ٹی کی انکوائری رپورٹس سامنے آنے کے بعد اس دلخراش واقعے سے متعلق کئی ہولناک انکشافات ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ اس حادثے میں 34 کان کن جاں بحق ہو گئے تھے جن میں سے 33 کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا اور بیشتر کا تعلق ایک ہی گاں سے تھا، جبکہ ایک ہی خاندان کے تین بھائی اور ان کا چچا بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل تھے۔تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق تین سال میں دو ارب روپے سے زائد مالیت کا کوئلہ نکالنے والی اس نجی کمپنی کے مزدوروں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں تھا، رہائش کے حالات انتہائی ابتر تھے اور بیشتر مزدوروں کی ای او بی آئی (EOBI) رجسٹریشن بھی نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حادثے سے قبل کان میں لکڑی کے کمزور سہاروں، کوئلے کی دھول اور دیگر حفاظتی خامیوں کی نشاندہی ہو چکی تھی لیکن انتظامیہ نے مجرمانہ غفلت برتی۔ سب سے سنگین انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ کان میں غیر قانونی طور پر دھماکہ خیز مواد استعمال کیا جا رہا تھا جبکہ کمپنی کے پاس نہ تو اس کے استعمال کا لائسنس تھا اور نہ ہی کوئی ماہر موجود تھا، اور یہ خوفناک حادثہ اسی بارودی مواد کے دھماکے کے نتیجے میں پیش آیا۔ اس کے علاوہ کان میں 16 سال کے کم عمر مزدور بھی کام کرنے پر مجبور تھے۔رپورٹ میں سرکاری ادارے پی ایم ڈی سی کے کردار پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے ہیں جس نے لیز پر حاصل کردہ علاقے میں کان کنی کے حقوق ایک نجی کمپنی کو دے کر خود کو تمام ذمہ داریوں سے الگ کر لیا تھا۔ انکوائری رپورٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ حفاظتی ایس او پیز کو ہوا میں اڑانے اور منافع کی ہوس نے 34 گھر اجاڑ دیے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ان ہوشربا انکشافات کے بعد ذمہ داران کے خلاف کیا قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

