وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت دانش یونیورسٹی پر جائزہ اجلاس ہوا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کے ذہین طلباء و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی، دانش یونیورسٹی کے قیام میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ اسکا نظام روایتی یونیورسٹیوں سے ہٹ کر اور بہترین رکھا جائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ یونیورسٹی کی تعمیر کی معینہ مدت کے ساتھ منصوبے کی تفصیلات آئندہ دو ہفتوں میں مرتب کرکے پیش کی جائیں، دانش یونیورسٹی کے قیام کے پیچھے مرکزی محرکات میں سے اولین، غریب و متوسط طبقے کے طلباء و طالبات کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی ہے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی کے آوٹ ریچ پروگرام میں اس عنصر کو کلیدی اہمیت دی جائے کہ معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کے بچوں کی اس کی آگہی اور رسائی یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کو دانش یونیورسٹی کے بورڈ کی جانب سے بین الاقوامی معیار کی فیکلٹی اور تعمیر کے پلان اور مراحل پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دانش یونیورسٹی میں بین الاقوامی یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ عالمی شہرت کی حامل فیکلٹی کی تدریسی خدمات حاصل کی جائیں گی جسکے لئے فیکلٹی کے ساتھ ساتھ امریکہ کے معروف کالج کی خدمات حاصل کرنے کیلئے اقدامات حتمی مراحل میں ہیں. اجلاس کو فیکلٹی کی تفصیلات اور کالج کے ساتھ تدریسی نظام کے حوالے سے حالیہ مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ یونیورسٹی کی تعمیر بین الاقوامی سطح پر رائج اسٹیٹ آف دی آرٹ کیمپس ڈیزائن کے مطابق کی جائیگی جسکے لئے بڈنگ جلد کی جائیگی. اجلاس کو یونیورسٹی کا مجوزہ ڈیزائن و پلان بھی دکھایا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، دانش یونیورسٹی کے بورڈ کے ارکان اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

