جمعہ, اگست 28, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس کی بندش ناقابلِ قبول ہے؛ جلد از...

بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس کی بندش ناقابلِ قبول ہے؛ جلد از جلد کلاسز کا آغاز کیا جائے،بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس کی بندش ناقابلِ قبول ہے؛ جلد از جلد کلاسز کا آغاز کیا جائے،بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں جب اور جیسے چاہیں ادارے بند کر دیے جاتے ہیں یا کھول لیے جاتے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہاں بلوچستان میں تعلیمی ادارے یا اُن کے ذیلی کیمپس کئی کئی مہینے بند رہتے ہیں، جس سے طلبہ کا تعلیمی کیریئر داؤ پر لگ جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ اس حوالے سے کوئی نوٹس تک نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اداروں کو فعال کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ایک کھلا مذاق ہے، جس پر ہمیں شدید تشویش ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ سب کیمپس کی بندش اسی صورتِ حال کا تسلسل ہے، جس کے باعث طلبہ میں اپنے تعلیمی مستقبل کے
حوالے سے شدید بے چینی پھیل رہی ہے۔

مستونگ کیمپس کو بند ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، لیکن تعلیمی حکام اور متعلقہ اداروں کو اس کی خبر تک نہیں ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مستونگ کیمپس کے اکثر طلبہ اور فیکلٹی ممبران خود مستونگ کے رہائشی ہیں، اس کے باوجود گرمیوں کی چھٹیوں کے نام پر ادارے کا کئی مہینوں سے بند رہنا حکام کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں عدالتیں جہاں ایک طرف طلبہ کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کو روکنے کے لیے تو آڈرز جاری کرتی ہیں، وہی دوسری طرف تعلیمی ادارے اور اُن کے کیمپس مختلف وجوہات کی بنا پر بند رہتے ہیں، مگر عدالتیں اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتیں۔ بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس کی اس بندش سے طلبہ گوناگوں مسائل کا شکار ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی زوال
پذیری کی علامت ہے۔

ایک طرف طویل عرصے سے گڈ گورننس کا رٹ لگایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف تعلیمی ادارے مہینوں بند رہنے کے باوجود حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ نام نہاد گڈ گورننس آخر کہاں ہے، جو جہاں نظر آنی چاہیے وہاں اس کا نام و نشان تک نہیں۔ ہم بحیثیت طلبہ تنظیم، بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلد از جلد کلاسز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم حکومت اور تعلیمی حکام سے سوال کرتے ہیں کہ اداروں کی یہ بندش آخر کس قسم کی بہتری اور گڈ گورننس ہے؟ اس کے ساتھ ہی، ہم مستونگ کیمپس کے طلبہ کی آواز بن کر ان کی ہر ممکن رہنمائی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہم طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ، جو اُن کی بنیادی حق ہے، کے لئے پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے

error: Content is protected !!