کوئٹہ :گورنمنٹ سائنس کالج کوئٹہ کے پروفیسر مجاہد عمر مبینہ جعلی ڈگریوں اور تعلیمی اسناد کے معاملے میں تقریبا 30 سال بعد متعلقہ اداروں کی کارروائی کی زد میں آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پروفیسر مجاہد عمر نے مبینہ طور پر ایسی تعلیمی ڈگریوں اور اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی جو بعد ازاں مشکوک قرار پائی ہیں، جبکہ ان اسناد میں غیر معمولی طور پر زیادہ نمبرز درج ہونے کا بھی دعوی کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے پروفیسر مجاہد عمر کی تعلیمی اسناد، ڈگریوں اور دیگر دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے، جبکہ اس حوالے سے مختلف اداروں سے ریکارڈ بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ تحقیقات کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ جن اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی گئی، وہ اصل تھیں یا جعلی، اور اگر وہ جعلی یا غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھیں تو ان کی تصدیق کا عمل کس طرح مکمل ہوا ذرائع کا کہنا ہے کہ پروفیسر مجاہد عمر کی جانب سے مبینہ طور پر اعلی نمبروں والی ڈگریوں کی بنیاد پر ملازمت حاصل کیے جانے کے ساتھ ساتھ ان ہی اسناد کی بنیاد پر مختلف اعزازات اور اسکالرشپس حاصل کیے جانے کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہی اسناد کی بنیاد پر انہیں مبینہ طور پر قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ بھی ملتی رہی اس صورتحال نے متعلقہ اداروں کے سامنے کئی اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں کہ اگر مذکورہ تعلیمی اسناد واقعی جعلی یا غیر مستند ثابت ہوتی ہیں تو ان کی بنیاد پر نہ صرف سرکاری ملازمت کیسے حاصل کی گئی بلکہ طویل عرصے تک ملازمت جاری رکھنے میں متعلقہ محکموں کی جانب سے اسناد کی تصدیق کا عمل کیوں مثر ثابت نہ ہوسکا ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ پہلو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر مشکوک ڈگریاں اور اسناد کس تعلیمی ادارے یا بورڈ سے جاری ہوئیں، ان کا اصل ریکارڈ کہاں موجود ہے، ان اسناد کی تصدیق کس افسر یا ادارے نے کی اور سرکاری ملازمت کے حصول کے وقت متعلقہ محکمے نے تعلیمی قابلیت کی جانچ کس طریقہ کار کے تحت کی تھی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ریکارڈ کی جانچ کے دوران یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اسناد جعلی تھیں تو معاملہ صرف ایک شخص کی مبینہ جعلسازی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس بات کی بھی تحقیقات ضروری ہوں گی کہ جعلی یا مشکوک اسناد سرکاری ریکارڈ کا حصہ کیسے بنیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے کئی دہائیوں تک ان کی تصدیق کیوں نہیں ہوسکی مبینہ طور پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر پروفیسر مجاہد عمر نے تقریبا تین دہائیاں قبل انہی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی تو اس عرصے کے دوران ہونے والی محکمانہ ترقیوں، ملازمت کی مستقلی، سروس ریکارڈ کی جانچ اور دیگر مراحل میں ان کی تعلیمی اسناد کی دوبارہ تصدیق کیوں نہیں کی گئی دوسری جانب اگر قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ بھی انہی مبینہ مشکوک اسناد کی بنیاد پر حاصل کی گئی تو اس معاملے میں ان اداروں کے تصدیقی نظام پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ جاننا ضروری ہوگا کہ اعزاز اور اسکالرشپ دینے سے قبل تعلیمی ریکارڈ کی تصدیق کس ادارے سے کرائی گئی تھی اور اس وقت متعلقہ ریکارڈ میں کیا معلومات موجود تھیں ذرائع کے مطابق حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ پروفیسر مجاہد عمر کی تعلیمی اسناد کے نمبروں اور ان کے اصل امتحانی ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ ڈگری جاری کرنے والے ادارے کے ریکارڈ، رجسٹر، امتحانی نتائج اور دیگر متعلقہ دستاویزات کا موازنہ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ اسناد کی اصل حیثیت سامنے آسکے اگر تحقیقات میں مبینہ جعلی ڈگریوں کا الزام درست ثابت ہوتا ہے تو یہ معاملہ سرکاری ملازمت میں بھرتی کے نظام اور تعلیمی اسناد کی تصدیق کے طریقہ کار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ بالخصوص اس لیے کہ ایک سرکاری ملازم کی تعلیمی قابلیت صرف بھرتی کے وقت ہی نہیں بلکہ سروس کے مختلف مراحل پر بھی متعلقہ ریکارڈ کا حصہ ہوتی ہے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں یہ پہلو بھی زیر غور ہے کہ اگر کسی امیدوار نے مبینہ طور پر جعلی اسناد کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کی ہو تو اس کے ساتھ ساتھ ان اسناد کی تصدیق کرنے والے متعلقہ افسران یا اداروں کا کردار بھی سامنے لایا جائے، تاکہ یہ تعین کیا جاسکے کہ مبینہ غفلت کہاں ہوئی اور ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے تعلیمی حلقوں میں بھی اس معاملے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر کسی شخص نے جعلی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر نہ صرف سرکاری ملازمت حاصل کی بلکہ اعلی نمبروں، اعزازات یا اسکالرشپ کے فوائد بھی حاصل کیے ہوں تو اس سے ان طلبہ اور امیدواروں کے حقوق متاثر ہونے کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے جو میرٹ اور حقیقی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر مقابلے میں شامل ہوتے ہیں تاہم دوسری جانب یہ امر بھی اہم ہے کہ تاحال تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں اور پروفیسر مجاہد عمر کے خلاف عائد مبینہ الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کسی بھی نتیجے تک پہنچنے کے لیے متعلقہ تعلیمی اداروں، محکمہ تعلیم، امتحانی بورڈز اور دیگر متعلقہ اداروں کے اصل ریکارڈ کی جانچ ضروری ہوگی یو این اے کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ پروفیسر مجاہد عمر کی ڈگریاں اور دیگر تعلیمی اسناد حقیقی ہیں یا ان میں جعلسازی کی گئی، سرکاری ملازمت کے حصول کے وقت کون سا ریکارڈ پیش کیا گیا، اس کی تصدیق کس سطح پر ہوئی اور مبینہ طور پر انہی اسناد کی بنیاد پر ملنے والے اعزازات اور اسکالرشپس کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو تقریبا 30 سال تک مبینہ جعلی اسناد کا متعلقہ اداروں کی نظروں سے اوجھل رہنا ایک الگ اور انتہائی اہم سوال بن جائے گا۔ اس صورت میں نہ صرف اس شخص کے خلاف کارروائی بلکہ اس پورے نظام کی بھی تحقیقات کی ضرورت ہوگی جس کے تحت مبینہ طور پر مشکوک اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت، اعزازات اور اسکالرشپ حاصل کرنے کا راستہ ہموار ہوا یو این اے کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد آئندہ پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔ حتمی طور پر پروفیسر مجاہد عمر کی ڈگریوں اور اسناد کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ اداروں کی تصدیق اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

