کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءو بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی برسی کے موقع پر انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر حاصل خان بزنجو نے اپنی پوری سیاسی زندگی جمہوریت، آئین کی بالادستی، پارلیمانی سیاست، قومی حقوق اور عوامی اختیار کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ ان کی جدوجہد اور سیاسی بصیرت آج بھی بلوچستان اور ملک کے سیاسی کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اپنے ایک بیان میں میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ آج ہم میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی برسی ایسے وقت میں منا رہے ہیں جب بلوچستان کے طول و عرض میں سیاسی، سماجی اور معاشی حالات انتہائی سنگین ہیں، عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور سیاسی بے یقینی نے معاشرے کے مختلف طبقات کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں میر حاصل خان بزنجو کی فکر، سیاسی بصیرت اور جمہوری جدوجہد کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میر حاصل خان بزنجو نے مشکل ترین سیاسی حالات میں بھی جمہوری اور آئینی راستے کو ترک نہیں کیا۔ انہوں نے طاقت کے بجائے دلیل، تصادم کے بجائے سیاسی مکالمے اور غیر جمہوری طرزِ عمل کے بجائے پارلیمانی جدوجہد پر یقین رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بلوچستان کی سیاست میں ایک ایسی توانا آواز کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جس نے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر عوام کے حقوق کی بات کی۔ میر حاصل خان بزنجو صرف نیشنل پارٹی کے رہنما نہیں تھے بلکہ وہ بلوچستان اور ملک کے جمہوری سیاسی کارکنوں کے لیے ایک قومی سیاسی اثاثہ تھے۔ انہوں نے بلوچستان کے قومی سوال کو پاکستان کے آئینی، جمہوری اور وفاقی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے سیاسی انداز میں اجاگر کیا اور ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل بندوق، طاقت اور جبر میں نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ میر حاصل خان بزنجو نے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران آمریت، غیر جمہوری قوتوں اور سیاسی جبر کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔ ان کی سیاست کا بنیادی مقصد پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا، وفاقی اکائیوں کے حقوق کا تحفظ، جمہوری اداروں کی بالادستی اور عام شہری کو سیاسی عمل میں بااختیار بنانا تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بلوچستان کے عوام کو مایوسی سے نکالنے کے لیے ایسی ہی سنجیدہ، بردبار اور اصولی سیاست کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کے حل، صوبے کے حقوق کے تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان آج روزگار، تعلیم، صحت، امن اور اپنے مستقبل کے حوالے سے بے شمار سوالات کا سامنا کررہے ہیں۔ ان حالات میں سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اندر امید پیدا کرے، انہیں سیاسی عمل سے جوڑے اور مسائل کے پرامن و جمہوری حل کے لیے م¶ثر جدوجہد کرے۔انہوں نے کہا کہ میر حاصل خان بزنجو کی سب سے بڑی میراث ان کا سیاسی کردار، اصول پسندی اور جمہوریت پر غیر متزلزل یقین ہے۔ انہوں نے ذاتی مفادات کے بجائے اجتماعی قومی و جمہوری مفادات کو ترجیح دی اور اپنی زندگی کے آخری لمحے تک سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔انہوں نے کہا کہ میر حاصل خان بزنجو جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں لیکن ان کی سیاسی فکر، جدوجہد اور جمہوریت سے وابستگی آج بھی سیاسی کارکنوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ان کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہی انہیں حقیقی خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔میر رحمت صالح بلوچ نے میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی سیاسی و جمہوری خدمات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نام بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ عزت، وقار، اصول پسندی اور جمہوری جدوجہد کے حوالے سے زندہ رہے گا

