جمعہ, جنوری 30, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںپشین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے...

پشین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے ،پشین بچاو تحریک

  1. ضلع پشین کی تقسیم اور نئے اضلاع کا قیام ہے۔ جیسا کہ آپ حضرات کو معلوم ہے کہ ضلع پشین آبادی کے لحاظ سے بلوچستان کا تیسرا بڑا ضلع ہے۔ اور اس کی آبادی حکومت پاکستان کی جانب سے 2023ء کے مردم شماری میں تقریباً 500000 کی کٹوتی کے باوجود 836000 ہیں۔ ضلع پشین کے آبادی زیادہ ہونے اور وسائل کی کمی دیگر انتظامی امور میں مشکلات کی وجہ سے یہاں نئے اضلاع کے قیام کی ضرورت کافی عرصے سے محسوس کی جارہی تھی۔ سال 2018 ء کے الیکشن کے بعد بننے والی مخلوت صوبائی حکومت نے پشین ڈویژن اور پشین میں نئے ضلع کے قیام پر کام شروع کیا۔ حکومت بلوچستان نے ضلع برشور کاریزات بنانے کے لیے تمام قانونی اور مشاورتی مراحل مکمل کرنے کے بعد کابینہ سے ضلع برشور کاریزات کی منظور ی کی ۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہیڈ کوارٹر پر برشور اور کاریزات کے لوگوں کے مابین اختلاف سامنے آیا۔ جس کی وجہ سے نئے ضلع برشور کاریزات کے نوٹیفکیشن کے جاری ہونے میں کئی مہینے کی دیر ہوئی اس دوران حکومت بلوچستان نے لوگوں کے احتجاج پر ایک Review کمیٹی کمشنر کوئٹہ ڈویژن کی سربراہی میں بنائی کمیٹی نے برشور کاریزات کے قبائلی اور سیاسی عمادئدین سے ملاقاتیں کی۔ اور کمیٹی نے اپنی رپورٹ حکومت بلوچستان کو جمع کرادی اس کے بعد حکومت نے بلوچستان نے مورخہ 21 نومبر 2022 کو نئے ضلع برشور کاریزات کا ہیڈ کوارٹر خانوزئی کے ساتھ نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس کا پشین کے تمام لوگوں نے خیر مقدم کیا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے ساتھ ہی برشور کے لوگوں نے لانگ مارچ کرکے بلوچستان اسمبلی کے سامنے دہرنا دیا جس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعلیٰ نے قانونی تقاضے پورے کئے بغیر ایک کاغذ پر مشتمل نیا نوٹیفکیشن مورخہ 22 نومبر 2022 جاری کروایا جس میں ضلع کاریزات کو ہیڈ کوارٹر خانوزئی کے ساتھ قائم کیا ۔ جس کی ٹوٹل آبادی 152000 ہیں۔ اور برشور توبہ کاکڑی کو ضلع پشین میں رکھا گیاجس کی آبادی 143000 ہیں۔ اس طرح ضلع پشین کے آبادی واپس تقریباً 700000 سات لاکھ ہوئی۔ مورخہ 22 نومبر 2022 کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر تحصیل پشین تحصیل حرمزئی اور تحصیل سرانان کے محصوص کیا کہ ضلع پشین ضلع کاریزات کے قیام کی صورت میں 152000 آبادی نکلنے سے پشین کے اکثریتی آبادی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لیے ان تین تحصیلوں کے عوام نے پشین بچاو تحریک زیر سایہ 21 نومبر 2022 کے ضلع برشور کاریزات جس کی آبادی 295000 بنتی ہے کہ نوٹیفکیشن کے بحالی کے لیے احتجاج کا آغاز کیا۔ اور سخت سردی میں کئی دنوں تک صوبائی اسمبلی کے سامنے احتجاجاً دہرنا دیا۔ جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے 21 اور 22 نومبر 2022 کے دونوں نوٹیفکیشنز واپس لے کر ضلع پشین کو واپس اپنے پرانے حیثیت میں بحال کیا۔ اور وزیراعلیٰ نے پشین بچاو تحریک کے وفد سے وعدہ کیا کہ آپ فریقین بیٹھ کر متفقہ فارمولا لائیں میں اس کے مطابق نوٹیفکیشن جاری کرونگا۔ پشین بچاو تحریک نے متفقہ فارمولا بنانے کے لیے برشور اور کاریزات کے کمیٹیوں کے مشران سے بار بار رابطہ کیا مگر انہوں نے مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کے بجائے ہائی کورٹ میں کیس کئے۔اس کے بعد ہائی کورٹ میں پشین بچاو تحریک نے بھی 21 نومبر 2022 کے قانونی اور صوبائی کابینہ سے منظور شدہ نوٹیفکیشن کی بحالی کے لیے ہائی کورٹ میں کیس داخل کیا۔ ہائی کورٹ میں پچھلےتین سالوں سے کیس چل رہا ہے مگر کوئی عدالت عالیہ بلوچستان نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہماری معزز بلوچستان ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ اس کیس کا جلد از جلد فیصلہ کرائیں۔ اب ایک مرتبہ پھر 152000 آبادی پرمشتمل ضلع کاریزات یا 143000 آبادی پر مشتمل ضلع برشور بنانے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ پشین بچاو تحریک اس بابت اپنا موقف واضع کرنا چاہتی ہے کہ 21 نومبر 2022 کے نوٹیفکیشن کا کیس ہائی کورٹ میں چلنے کے باوجود اس طرح کم آبادی پر ضلع بنانے کے ہر سطح پر مخالفت کرینگے۔ اور پشین کو مختلف ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرنے دیں گے۔ کیونکہ ضلع پشین کے عوام الناس کو زیادہ آبادی کا مسئلہ درپیش ہے۔ اور وہ نئے ضلع کا قیام آبادی کے مناسب طریقے سے تقسیم کی حمایت کریں گے۔ یہاں پر نہ قبائلی مسئلہ اور نہ کسی کے ذات یا قبیلے کا مسئلہ ہیں۔ ہمارے موقف اور مطالبہ ہے کہ قبائل کو غیر فطری تقسیم کے ذریعے دست وگریبان کرنے کے بجائے 21 نومبر 2022 کا 295000 آبادی اور پورے حلقے PB-47 پر مشتمل ہیں ضلع برشور کا قانونی نوٹیفکیشن بحال کیاجائے اور ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ برشور اور کاریزات کے مشران آپس میں یہاں حکومتی فیصلے کے ذریعے حل کرائیں۔ ہمارا حکومت بلوچستان سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ ضلع برشور کاریزات بننے کے بعد پوری طورپر تحصیل حرمزئی ، تحصیل کربلا، اور تحصیل سرانان اور حلقہ PB-49 پر مشتمل ایک اور ضلع حرمزئی کے ساتھ تحصیل ڈب منزکئ ، تحصیل علی زئی اور تحصیل یارو قائم کرنے کے لیے پوری اقدامات اٹھائیں۔
  2. ہمارے پریس کانفرنس کا دوسرا حصہ پشین ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر سے متعلق ہے۔ پشین بچاو تحریک حکومت بلوچستان سے اور وزیر اعلیٰ میر سرفراز خان بگٹی صاحب کے شکرگزار ہے کہ انہوں نے پشین ڈویژن کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس بابت ہمارے عوام میں اس افوا یا حقیقت کی وجہ سے تشویش ہیں کہ پشین ڈویژن کا ہیڈکوارٹر گلستان رکھا جا رہا ہے۔ معزز صحافی حضرات قلعہ عبداللہ اور گلستان کے قبائل اور ان کی قبائلی وسیاسی مشران ہمارے بھائی اور ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ مگر جیسے ہم سب کو وہاں پر امن وامان کی صورت حال معلوم ہے۔ اس لیے وہاں کی امن وامان اور آنے جانے کی مشکلات کی وجہ سے پشین ڈویژن کے اکثریتی عوام کے ہیڈ کوارٹر کے لیے گلستان یا قلعہ عبداللہ کو موضوع نہیں سمجھتے اس لیے ہمارے حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ میر سرفراز خان بگٹی سے درخواست ہے کہ پشین ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر پر از سر نو غور کرکے اس کو سرانان یا رو کے نزدیک رکھا جائے کیونکہ سرانان اور یارو تمام اضلاع کا مرکز ہے اور یہاں پر امن وامان کی بہترین صورت حال ہے اور سہل طریقے سے قابل رسائی بھی ہے اور یہاں پر اعلیٰ اور نچلے سطح کے سرکاری اہل کاروں کے لیے آنے جانے اور ڈیوٹی سرانجام دینے میں آسانی ہوگی۔ بٹے زئی قبیلے نے ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر کور دوسرے سرکاری امارات کے لیے تقریباً 200 ایکڑ زمین اس وقت کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ کے ذریعے حکومت بلوچستان کو وقف کردی ہے بٹے زئی قبیلہ مزید زمین وقف کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔
RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے