لیویز افسران کو اپ گریڈیشن کے بعد پولیس میں ضم کرنے کے خلاف پولیس سب انسپکٹرز کی بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست
بلوچستان پولیس کے سب انسپکٹرز نے صوبائی حکومت کے فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے، جس کے تحت لیویز فورس کے رسالداروں کو براہِ راست پولیس انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وہ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے عمومی تصور کے حامی ہیں، تاہم لیویز افسران کو براہِ راست اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کا فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہے۔
ان کے مطابق اس اقدام سے پولیس افسران کی ترقی کے راستے مسدود ہو رہے ہیں اور سینئرٹی کے طے شدہ اصول بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
پٹیشنرز نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل ہیں، جن میں ماسٹرز اور بیچلر ڈگریاں شامل ہیں، جبکہ تفتیش، آپریشنز اور انتظامی امور میں بھی انہیں وسیع عملی تجربہ حاصل ہے۔ اس کے باوجود ان کی پیشہ ورانہ ترقی طویل عرصے سے جمود کا شکار ہے۔
درخواست میں پولیس قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو 15 برس کے اندر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کے عہدے پر ترقی ملنی چاہیے، تاہم تقریباً 18 سال کی خدمات کے باوجود بیشتر افسران کو صرف ایک ہی ترقی ملی ہے، جو اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے سب انسپکٹر تک محدود رہی۔
درخواست گزاروں نے نشاندہی کی کہ دیگر سرکاری محکموں کے برعکس پولیس افسران کی ترقی کے مواقع مسلسل نظرانداز کیے جاتے رہے ہیں۔ لیویز افسران کو انسپکٹر اور ڈی ایس پی کے عہدوں پر براہِ راست ترقی دینے سے پولیس فورس میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے، کیونکہ اس سے افسران کے لیے ریٹائرمنٹ سے قبل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے عہدے تک پہنچنے کے امکانات عملاً ختم ہو جاتے ہیں۔
پولیس سب انسپکٹرز نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ لیویز افسران کی براہِ راست ترقی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے، پولیس افسران کے ترقیاتی مسائل کا مستقل حل تجویز کیا جائے اور بلوچستان پولیس میں شفاف، منصفانہ اور قواعد کے مطابق ترقیاتی نظام نافذ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان پولیس کے کمیشنڈ افسران کو بھی دیگر کمیشنڈ افسران کی طرح تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افسران کو ان کی قابلیت کے مطابق انصاف مل سکے

