جمعرات, جنوری 22, 2026
ہوماہم خبریںلوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے...

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے، شرجیل میمن

کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں لوگوں کو زندہ جلایا۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک صاحب کی پریس کانفرنس سنی کہ 18ویں ترمیم خراب ہے لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، تو کیا اس سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔ یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو جلایا ہے۔

مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرس پر انہوں نے کہا کہ میں آپ کو جواب آپ کی باتوں سے دوں گا، بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے چکر میں آگ لگائی گئی، 12 مئی کو انسانوں کا شکار کیا گیا اور معصوم جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں جو آگ لگائی گئی آپ نے ان کا کاروبار چھینا، گل پلازہ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور آپ کیا بات کر رہے ہیں۔ میں آپ کو ان کی ریکارڈنگ سناتا ہوں۔

شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال کی ماضی کی پریس کانفرنس کے کلپ چلا دیے۔

سینیئر وزیر نے کہا آپ نے سنا کہ مصطفیٰ کمال نے اپنے قائد خالد مقبول کے بارے میں کیا کہا، انہوں نے اتحادی حکومت کے قائدین کو کیا کیا کہا وہ سب کے سامنے ہے، جب یہ کراچی کے میئر تھے ان کے لوگوں کے ساتھ رویے کیا تھے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ آج جو باتیں انہوں نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ صاحب خود کو کراچی کا دعوے دار کہتا ہے اور وفاقی وزیر صحت ہے، کیا یہ ابھی تک جائے وقوع پر پہنچے؟ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے رابطہ کیا؟ ایم کیو ایم کی اصلیت سب کے سامنے ہے، یہ اسکور کی طرح گن گن کر لوگ مارتے تھے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے، کسی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ اس سانحے کے بعد ون پوائنٹ ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاشوں کو ملبے سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جائے گا، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ڈی این اے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ سانحے میں 86افراد لاپتا تھے جن میں سے دو کا پتہ چل گیا تھا اور وہ اسپتال میں تھے، باقی لوگوں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ لوگوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی کہ حکومت اکیلا نہیں چھوڑے گی، ماضی میں عاشورہ کے بعد جو مارکیٹ جلائی گئی ان کے متاثرین کی بھی مدد کی تھی، ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کی بھی مدد کی تھی، حکومت اب بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ جنوری 2024 میں بنائی گئی تھی، وہ رپورٹ کمشنر کراچی کو ملی اور انہوں نے ڈی سی کو بھیجی کہ آڈٹ کریں، اب تحقیقات ہو رہی ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ گل پلازہ کو نوٹس ملا تھا یا نہیں اور اس وقت نگراں حکومت تھی۔ اب تحقیقات ہو رہی ہیں جس میں تمام حقیقت سامنے آجائے گی، کہیں کوئی کوتاہی ہے تو حکومت ایکشن لے گی۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تاجروں سے ملاقات ہوئی اور ان سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہوئی، انہوں نے کہا کہ باقی عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عمل کروایا جائے۔ میرے اندازے سے پورے پاکستان میں 90 فیصد عمارتیں ایسی ہوں گی جہاں فائر ایگزٹ نہیں ہوگا اور نا آلات ہوں گے، البتہ نئی بننے والی عمارتوں میں ایس او پیز پر عمل کروایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم متاثرہ دکانداروں کے لیے بلا سود قرض کا منصوبہ بھی سوچ رہے ہیں اور کچھ جماعتیں اس ایشو پر بھی سیاست کر رہی ہیں۔ اس پر سیاست کرنا اور وہاں انتشار کروانا، اس پر پیڈ مہم چلانا غلط ہے۔ گل پلازہ افسوسناک سانحہ ہے لیکن کچھ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہ رہے ہیں۔

سندھ کے سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی میں ای چالان پر بھی سیاست کرنے کی کوشش کی گئی لیکن دیکھیں اس سے ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری آئی ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے