جمعرات, جنوری 22, 2026
ہوماہم خبریںاب بہت ہوچکا، 18 ویں ترمیم سے ہماری نسل کشی ہورہی ہے،...

اب بہت ہوچکا، 18 ویں ترمیم سے ہماری نسل کشی ہورہی ہے، کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے: ایم کیو ایم کا مطالبہ

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہےکہ 18 ویں ترمیم کے تحت ہماری نسل کشی ہورہی ہے لہٰذا وفاقی حکومت آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دے۔

کراچی میں بہادرآباد آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر مصظفیٰ کمال نے کہا کہ یہ شہر ایسا نہیں تھا، کتنا خون دیں اور کتنے حادثات برداشت کریں، یہ اس شہر کے رہنے والوں کی نسل کشی ہورہی ہے، یہ نسل کشی کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانوں کی تسلیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں، ایم کیوایم بڑی جماعتوں میں سےایک ہے،ہم اپنی ذمہ داری اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ نہ دیکھیں کہ کس لہجہ میں کہہ رہا ہے یہ دیکھیں کیا کہہ رہا ہے، ریاست  سے مطالبہ کرتے ہیں کراچی کو وفاق کا حصہ قرار دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر شہر کے لیے بات کرو تو یہ فیشن بن گیا ہے کہ کہیں کہ بلدیہ فیکٹری کا جواب دو، آپ 18 سال سے ہیں، آپ ہمیں پھانسی پر کیوں نہیں لٹکاتے ، سزا کیوں نہیں دیتے، مشرقی پاکستان میں ادھر ہم اور ادھر تم کا نعرہ ایم کیوایم نے لگایا تھا؟ 27 دسمبر کو بینظیر کی شہادت پر دکانیں، گاڑیوں اور فیکٹریوں کو آگ ایم کیوایم نےجلایا؟  مرتضٰی بھٹو کو بھی ایم کیو ایم نے مروایا؟ بے نظیر کے قاتلوں کو بھی ایم کیو ایم نے کھلا چھوڑا ؟ محترمہ کی شہادت پر ایم کیو ایم نے جلاو گھیراؤ کیا تھا؟ پیپلزپارٹی کو بتانا چاہتا ہوں آپ جو ہم پر الزام لگاتے ہیں اور بھی ہیں الزام۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے ریاست کیساتھ تعاون کرکے ’را‘ کے اسلحہ جمع کرکے ریاست کو دیے،  ریاست 30 سالوں تک ’را‘ کے تسلط کو ختم کرنے میں ناکام رہی،  ریاست کو اس شہر سے ’را‘ کے دیے گئے اسلحوں کے ٹرک بھر کردیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے،  یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں؟ یہ شہر ایسا نہیں تھا، سندھ حکومت سےجب شکایت کریں تو جواب آتا ہے بلدیہ فیکٹری کی آگ کا جواب دو،بھتا خوری کا جواب دو، کیا اس کا جواز یہ ہے؟ سندھ میں کوٹا سسٹم ایم کیوایم نے لگا کر نسل کشی کی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 18 سال سے آپ لوگوں کی حکمرانی ہے،  آپ اس طرح کے سانحات کا انتظار کرتے ہیں، ایم کیوایم کے میئر کے زمانے میں بھی آگ لگی ہے،  بولٹن مارکیٹ میں لگی آگ کس کو یاد نہیں،  وفاق  اور ریاست کے اداروں سے کہتاہوں، یہ شہر اور کتنی قربانی دے، وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی شہر کیلیے کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ پیپلزپارٹی ناراض ہوجاتی ہے،  اس حکومت کو چلانے میں پیپلزپارٹی کی ضرورت ہےاور مر ہم رہے ہیں،  ہمیں کوئی ٹائم بتا دیں ، بتا دیں کہ آپ کے شہر میں اتنے لوگ مزید مریں گے، ہمیں صبرآجائے، دنیا چاند پر جارہےہیں، کراچی میں بچے گٹر میں گرکر مرجاتے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ جو چاہیں کریں، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں، ریاست سے دو باتیں کہتاہوں، اب بہت ہوچکا ، یہ نہیں سدھریں گے، کراچی کو فیڈریل ٹیریٹری کا حصہ بنایا جائے، کراچی کو وفاق کے انڈر میں لیا جائے، کراچی اب ایسی ایڈمنسٹریشن کے حوالے رہنے کا مزید متحمل نہیں ہوسکتا،کراچی کو آرٹیکل 148 اور 149 کے تحت دارالخلافہ کا حصہ بنایا جائے، آپ کراچی کو فائننشل کیپیٹل ڈکلیئر کریں اور وفاق کے تحت لیں، 18ویں ترمیم کا ڈرامہ اب ختم ہونا چاہیے، اسی 18 ویں کے ذریعے ہماری نسل کشی ہورہی ہے، 18 ویں ترمیم ملک کے ناسور بن گیا ہے اسے فوری ختم کیا جائے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے