جمعرات, جنوری 22, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریںبلوچستان میں بڑی انتظامی تبدیلی کی تیاری: 5 سے زائد نئے اضلاع...

بلوچستان میں بڑی انتظامی تبدیلی کی تیاری: 5 سے زائد نئے اضلاع اور 3 نئے ڈویژنز کے قیام کا فیصلہ، کوئٹہ میں نیا ضلع بھی شامل

بلوچستان میں انتظامی نقشہ بدلنے کی تیاری 5 سے زائد نئے اضلاع اور 3 نئے ڈویژنز کے قیام کا فیصلہ کوئٹہ میں ایک نیا ضلع، برشور اور قادر آباد ضلع بھی نئے نقشے پر ابھرنے کو تیار۔

کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں آج ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں صوبے کی انتظامی ساخت میں بڑی تبدیلیوں کا ایجنڈا شامل ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں پانچ سے زائد نئے اضلاع اور تین یا ممکنہ طور 4 نئے ڈویژنز کے قیام پر تفصیلی غور کیا جائے گا،ذرائع کے مطابق ضلع پشین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے تحت نیا ضلع برشور قائم کیا جائے گا،اس اقدام کا مقصد انتظامی سہولت اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کوئٹہ کو باقاعدہ طور پر ڈویژن کا درجہ دینے اور اسے دو اضلاع ( کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ)میں تقسیم کرنے کا بھی قوی امکان ہے، جس سے صوبائی دارالحکومت میں بڑھتی آبادی اور انتظامی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ذرائع کے مطابق پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن کو کوئٹہ ڈویژن سے الگ کر کے ایک نیا ڈویژن قائم کرنے کی تجویز بھی اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا ڈویژنل ہیڈکوارٹر ممکنہ طور پر قلعہ عبداللہ میں قائم کیا جائے گا۔ اس حوالے سے باخبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی اضلاع کی علیحدہ انتظامی شناخت کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں ایک اور ممکنہ نئے ڈویژن پر بھی غور ہوگا جس میں بیکڑ، بارکھان،کوہلو اور ملحقہ ڈیرہ بگٹی کے علاقہ کو شامل کرنے کی تجویز ہے، جبکہ اس ڈویژن کا ہیڈکوارٹر بیکڑ یا بارکھان میں قائم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ نئے ڈویژن کا نام کوہ سلمان ڈویژن ہوسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق بیکڑ کو ضلع ڈیرہ بگٹی سے الگ کر کے ایک نیا ضلع قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جس کا نام ضلع قادر آباد رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ قلات ڈویژن کو تقسیم کر کے ایک نیا بیلا ڈویژن قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس کی ممکنہ حدود خضدار سے حب تک ہوں گی، جبکہ نئے ڈویژن کا ہیڈکوارٹر خضدار یا بیلا میں قائم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے ساحلی اور اندرونی علاقوں کے درمیان انتظامی رابطے کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

مکران ریجن کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق کیچ اور گوادر اضلاع کو تقسیم کر کے دو نئے اضلاع قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس کا باضابطہ اعلان اجلاس کے بعد متوقع ہے مگر موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کیچ کو تقسیم کرکے نیا ضلع تُربت قائم کئے جانے کا امکان ہے۔

اسی طرح جھل مگسی، ڈھاڈر اور بولان کو نصیرآباد ڈویژن سے الگ کر کے سبی ڈویژن میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ موسیٰ خیل کو ژوب ڈویژن میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو بلوچستان کی انتظامی تاریخ میں یہ ایک بڑی اور دور رس تبدیلی ہوگی، جس کے نتیجے میں عوام کو نچلی سطح پر بہتر سہولیات، تیز تر انصاف اور مؤثر حکمرانی میسر آ سکے گی۔
اجلاس کے فیصلوں پر پورے صوبے کی نظریں مرکوز ہیں۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے