کراچی میں گل پلازہ میں آتشزدگی،سترہ گھنٹے سے زائد کا وقت گزر جانے کےباوجود آگ پرقابو ناپایاجاسکا ،بےرحم آگ 6 افرادکی جانیں نگل گئیں،30 سے زائد افراد زخمی ہوئے،آگ سےگراؤنڈ اورمیزنائن فلور مکمل طورپرجل چکا ہے،عمارت کےمتعدد حصےگرگئے،بیشترخانداروں کو اپنےپیاروں کی تلاش ہے،وہیں سینکڑوں دکانداروں کی برسوں کی کمائی بھی راکھ ہوگئی ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایم اے جناح روڈپرگل پلازہ میں لگی آگ 17 گھنٹے بعد بھی بےقابوہے،متاثرہ عمارت کے کئی حصے زمین بوس ہوگئے،گراؤنڈ اورمیزنائن فلور مکمل طور پر جل گئے،تیسرے درجے کی آگ بجھانےکی کوششیں جاری ہیں،فائر بریگیڈ کی 20 گاڑیاں اور 4 اسنار کل آپریشن میں مصروف ہیں، سندھ رینجرز اور پاک بحریہ کی ٹیمیں بھی موجود ہیں،دکانوں میں کیمیکل اوردھویں کےباعث آپریشن میں مشکلات کاسامنا ہے،عمارت کےپلرزکمزورہوچکے،حکام نے پوری عمارت کو مخدوش قراردے دیا،کسی بھی وقت گرنےکاخدشہ ہے،تین منزلہ پلازہ میں بارہ سو سے زائد دکانیں قائم تھیں۔
فائربریگیڈحکام کاکہنا ہےکہ آگ کی نوعیت اور عمارت میں موجود مواد کے باعث اسے بجھانے میں وقت لگ رہاہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننےکےلیےتحقیقات جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کوگل پلازہ میں آتشزدگی سے متعلق کمشنرکراچی اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی رپورٹ پیش کردی گئی،گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ رات 9 بجکر 45 سےسوا دس بجے کے درمیان پیش آیا،گل پلازہ آتشزدگی کے نتیجے میں 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں،فائر بریگیڈ کی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد قابو پا لیا گیا،امدادی کارروائی میں 22 فائر بریگیڈ گاڑیاں، 10 واٹر باؤزرز اور 4 اسنارکل گاڑیاں شامل رہیں،ریسکیو 1122 آپریشن میں 33 ایمبولینسز نے بھی حصہ لیا۔
ڈپٹی کمشنرسائوتھ کےمطابق گل پلازہ کی عمارت 1989 میں تعمیرکی گئی تھی اوراس حوالےسےریکارڈ چیک کیاجارہا ہے،آگ کی شدت میں نمایاں کمی آچکی ہے،تاہم صورتحال اب بھی حساس ہے،عمارت میں اندرونی راستےتوموجود ہیں لیکن ہنگامی صورتحال میں باہرنکلنے کےلیےکوئی مناسب ایمرجنسی ایگزٹ موجودنہیں تھا،متعلقہ اداروں سےعمارت کا نقشہ اوردیگرقانونی دستاویزات بھی چیک کی جائیں گی۔

