تائیوان کا ایک ایف 16 لڑاکا طیارہ مشرقی ساحل کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، جس کے بعد پائلٹ کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حادثے نے تائیوان کی فضائی سلامتی سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔
تائیوان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق حادثہ پیش آنے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں کو روانہ کردیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ سمندر کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس کے باعث سرچ آپریشن میں بحری اور فضائی دونوں وسائل استعمال کیے جارہے ہیں۔
تائیوان کی فضائیہ کے مطابق ایف 16 لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہوگیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کو کسی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، تاہم حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق پائلٹ کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ ہولین کاؤنٹی کے قریب طیارے سے بروقت نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر پائلٹ نے ایجیکٹ کیا ہے تو اس کی تلاش کے امکانات روشن ہیں، تاہم حتمی تصدیق رسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی ہوسکے گی۔
حادثے کے بعد تائیوان کے صدر ولیم لائی چنگ تے نے فوری طور پر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک ہونے کی ہدایت کی ہے۔ صدر نے پائلٹ کی جلد از جلد بازیابی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لانے اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدر ولیم لائی چنگ تے نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل اور شفاف تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فضائیہ کے اہلکاروں کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ تائیوان کی فضائیہ میں ایف 16طیارہ اہم دفاعی کردار ادا کرتے ہیں اور اس سے قبل بھی تربیتی پروازوں کے دوران پیش آنے والے حادثات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ریسکیو اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔

