ہفتہ, فروری 14, 2026
ہوماہم خبریںبلوچستان کی خبریں26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے بعض اداروں کو ضرورت سے زیادہ...

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سے بعض اداروں کو ضرورت سے زیادہ اختیار مل جائیں گے، جو جمہوریت کیلئے خطرہ ہے، علی احمد کرد

کوئٹہ : وکلا نے 26ویں اور 27ویں آینی ترامیم کے خلاف کوئٹہ میں عدالتی احاطے کے اندر شدید احتجاج کیا اور انہیں آئین کو روح کے منافی اور جمہوری اقدار، عدالتی آزادی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے بہراہ راست خطرہ قرار دیا۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت سینئر وکیل اور سیاسی شخصیت علی احمد کرد کررہے تھے جہنوں نے وکلائ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجوزہ ترامیم کے خلاف نعرے لگائے۔

شرکائ نے پہلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جس کو انہوں نے آینی فریم ورک کو نقصان پہنچانے اور ریاستی اداروں کے درمیان طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترمیم آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ورزی اور اس کے اصل جوہر کو کمزور کیا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اختیارات کی علیحدگی پر منفی اثر ڈالیں گی، ادارہ جاتی ہم آہنگی میں خلل ڈالیں گی اور ملک کے جمہوری ڈھانچے کو تباہ کردیں گی۔

ان کے مطابق ان ترامیم سے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کی شہری آزادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ وکلائ نے اس بات پر زرور دیا کہ مجوزہ ترامیم سے بعض اداروں کی ضرورت سے زیادہ اختیارات مل جائیں گے، جس سے آینی چیک اینڈ بیلنس کمزور ہوگا ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے آمرانہ طرز عمل کا باعث بن سکتے ہیں اور جمہوری عمل کو مزید پسماندہ کرسکتے ہیں۔ وکلائ میں سے ایک نے کہا کہ یہ ترامیم نہ صرف غیر آٰنی ہیں بلکہ پاکستان کی جمہوریت کے مستقبل کے بھی خطرناک ہیں ۔انہوں نے نے روز دیا کہ ان ترامیم کو مسترد کرنا ہر باشعور شہری اور قانونی پیشہ ور افراد کی آینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ و

کلائ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ صوبے بھر میں اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔ انہوں نے آئین کے دفاع، عدلاتی آزادی کے تحفظ اور پاکستان میں جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے