جمعرات, جنوری 22, 2026
ہوماہم خبریں27 ویں ترمیم سینیٹ سے پھر منظور، عدلیہ مارشل لا کی توثیق...

27 ویں ترمیم سینیٹ سے پھر منظور، عدلیہ مارشل لا کی توثیق نہیں کرسکے گی، اعظم نذیر تارڑ

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس جاری ہے، قومی اسمبلی سے منظور کی گئی 27ویں آئینی ترمیم کی اضافی شقیں منظور کرلی گئی ہیں۔

سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے بل کی حتمی منظوری کی تحریک پیش کی، 27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کے حق میں 64 اور مخالفت میں 4 ووٹ ڈالے گئے، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔

سینیٹ اجلاس کے لیے 27 ویں ترمیم کی اضافی شقیں ایجنڈے کا حصہ تھیں، جنہیں قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا، اس کے علاوہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی ممکنہ بندش سے متعلق رپورٹ بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ مجھے یہ معلوم تھا کہ یہ مسئلہ اجاگر ہوگا، شاہ محمود قریشی نے بھی کہا تھا کہ وہ ہاؤس سے استعفیٰ دے رہے ہیں، میرے پاس ابھی تک تحریری طور پر کوئی استعفیٰ نہیں آیا، سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ بھی نہیں پہنچا۔

وزیر قانون نے کہا کہ تحریری طور پر ابھی کچھ نہیں ہوا، ابھی تک دونوں سینیٹرز ایوان کے ممبر ہیں، بعض اوقات انسان جذبات میں آکر استعفے کا بول دیتا ہے، اگرآپ ووٹ دیں تو پارٹی سربراہ، چیئرمین یا اسپیکر کو ریفرنس بھیج سکتا ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے دستور ستائیسویں ترمیمی بل 2025 سینیٹ میں پیش کیا، وفاقی وزیر نے 27 ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔

اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے ایوان میں احتجاج اور شور شرابہ کیا گیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ برقرار رہے گا، موجودہ چیف جسٹس اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، کچھ وضاحتیں ضروری تھیں، اس وجہ سے مزید ترامیم پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 6 غداری سے متعلق ہے، اگر کوئی طاقت سے آئین کو پامال کرتا ہے، آرٹیکل 6 کے مرتکب افراد کو کوئی عدالت توثیق نہیں دے گی۔

اعظم نذیر نے مزید کہ چیف جسٹس، آڈیٹر جنرل کےحلف چیف جسٹس آف پاکستان لیں گے، کوئی عدالت آرٹیکل 6 کے تحت کسی مارشل لا یا غیر آئینی اقدام کی توثیق نہیں کرسکے گی۔

سینیٹر دنیش کمار نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 مزید ایسے سینیٹرز ہیں جو ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں، سیف اللہ ابڑو بھی ووٹ دیں گے، ووٹ بغیر ناشتہ کیے بھی دیا جا سکتا ہے، ایسا نہیں کہ ناشتہ کر کے ہی ووٹ دیا جائے۔

اپوزیشن کے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ اتنی عجلت میں آئین پاس ہوگا تو غلطیاں اور وضاحت دینا پڑے گی، حکومت کو صرف ایک شخص کا ڈر ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ یہ ترمیم جھوٹ اور فریب کے ساتھ لے آئے ہیں، ووٹ کی چوری کے ساتھ ترامیم لائیں گے تو سچ کونہیں چھپا پائیں گے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں غیرآئینی طریقے سے اسمبلی توڑی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک اچھا اقدام تھا، تحریک انصاف بھول گئی کہ کیسے جلدی میں اسمبلی توڑی گئی تھی، 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور ہوچکی ہے۔

اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ ان کے اسپیکر نے تو اجلاس بلانے کی تکلیف ہی نہیں کی تھی، اپوزیشن یا قومی اسمبلی میں نشاندہی کے بعد 8 ترامیم کی گئی ہیں۔

سینیٹر محسن عزیز عوامی اہمیت کے معاملے پر رپورٹ پیش کریں گے، نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 پر رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔

فوڈ سیکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مسرور احسن رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اسٹیٹ بینک کی مالی سال 25-2024 کی رپورٹ پیش کریں گے۔

رپورٹ میں مالی پالیسی، بینک کے اہداف اور معیشت کی صورتحال بتائی جائے گی، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی 3 سالہ رپورٹ پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم منظور کی تھی، ترمیم کے حق میں 234 اور مخالفت میں 4 ووٹ پڑے تھے، اپوزیشن نے قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، جبکہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو بھی شریک ہوئے تھے۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ واناکیڈٹ کالج حملے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کردی، حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے، اساتذہ اور طلبہ کو بحفاظت نکالاگیا، سیکیورٹی فورسز کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو قوم کی جانب سےمبارکباد پیش کرتے ہیں۔

27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں حتمی منظوری کے لیے پیش کی گئی تھی، یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا ’ٹائٹل‘ کس کے پاس برقرار رہے گا۔

تاہم آرٹیکل 176 کی شق 23 میں کی گئی تبدیلی نے یہ ابہام دور کر دیا ہے، جس میں واضح کر دیا گیا کہ موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدتِ ملازمت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان ہی رہیں گے۔

جسٹس آفریدی نے اکتوبر 2024 میں 30ویں چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر حلف اٹھایا تھا، ان کی مدت 3 سال بعد مکمل ہوگی۔

اسی طرح، ترمیم میں شامل کی گئی ایک نئی تعریف کے مطابق، چیف جسٹس آف پاکستان کا مطلب ہوگا کہ ’دونوں عدالتوں (ایف سی سی اور سپریم کورٹ) کے چیف جسٹس صاحبان میں سینئر ترین۔

یہ شق موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نافذ العمل ہوگی۔

مزید وضاحت اس وقت سامنے آئی، جب وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے صبح سے جاری اس بحث کو بے بنیاد قرار دیا کہ تاریخی 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اب بھی سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان جیسے اہم عدالتی اداروں کے سربراہ رہیں گے۔

تاہم، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ ایف سی سی اور سپریم کورٹ کے ’چیف جسٹسز میں سے سینئر ترین جج‘ کے پاس چلا جائے گا۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے