وزارت خزانہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ تمام شرائط پوری کیے جانے کے بعد اب پاکستان کے لیے آئی ایم ایف فنڈ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت پاکستان کے تیسرے اقتصادی جائزہ پر ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے اور ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی منظوری دینے کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ( مئی )کے پہلے ہفتے منعقد ہوگا۔
اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کی تمام شرائط پوری کردی ہیں اور آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے، اس لیے اب آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط کے اجرا کی منظوری کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ توقع ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں ای ایف ایف کے تحت قرضے کی اگلی قسط اور کلائمیٹ فنانسنگ کے آر ایس ایف پروگرام کی 21 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط بھی ملے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پیٹرولیم پر ٹارگٹڈ سبسڈی سے متعلق اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ صارفین کو منتقل کرنے سے پہلے آئی ایم ایف سے مشاورت کی گئی ہے۔
ٹارگٹڈ سبسڈی کی رقم رواں مالی سال کے بجٹ سے خرچ ہوگی اور مشکل حالات کے لیے 300 ارب کے ہنگامی فنڈز بھی دستیاب ہیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے ڈیپازٹس طویل مدت کے لیے روول اوور کرنے پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ یو اے ای پاکستان کے ذمہ قرضہ جلد رول اوور کر دے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کو دوست ممالک کے قرض کے رول اوور کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے جبکہ اس وقت اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں، چین کے 4 ارب ڈالر اور یو اے ای کے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ہیں۔
یو اے ای کے 2 ارب ڈالر رواں ماہ اور ایک ارب ڈالر کی واپسی جولائی میں ہونا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔ تمام ادائیگیاں بروقت ہوں گی۔

