کوئٹہ: پشتون آبادسب ڈویژن کے علاقوں میں 24 گھنٹوں سے بجلی غائب، عوام سراپا احتجاج
غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور حکام کی غفلت پر شدید ردعمل، شہریوں کا اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد سب ڈویژن میں بجلی کی مسلسل اور غیر اعلانیہ بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے علاقہ مکمل طور پر تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کی مجرمانہ غفلت اور من مانی نے شہریوں کو شدید اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایس ڈی او داؤد کٹک اور لائن سپرنٹنڈنٹ آصف کی ذاتی خواہشات اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث بجلی کی فراہمی ایک مذاق بن چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہتی ہے، مگر بیچ میں جان بوجھ کر لائنیں کاٹ دی جاتی ہیں، جس کے باعث پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ متعلقہ افسران اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر غافل ہیں یا پھر کسی مخصوص مفاد کے تحت یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔
عوامی نمائندوں اور مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی عدم فراہمی نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ بیمار، بزرگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بجلی کی لوڈشیڈنگ شیڈول کے مطابق ہو تو اسے برداشت کیا جا سکتا ہے، مگر اس طرح کی غیر اعلانیہ اور جانبدارانہ بندش ناقابل قبول ہے۔
مزید برآں، یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ شکایات کے باوجود متعلقہ افسران نہ تو عوام کی بات سننے کو تیار ہیں اور نہ ہی مسئلے کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ افسران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی باز پرس کرنے والا موجود نہیں۔ ان کی یہ روش کھلی ناانصافی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضح مثال ہے۔
اہل علاقہ نے اعلیٰ حکام، بالخصوص چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری توانائی اور کیسکو کے اعلیٰ افسران سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر اس ناانصافی کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ریاستی اداروں کا اولین فرض عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے، مگر جب یہی ادارے عوام کے لیے عذاب بن جائیں تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ پشتون آباد کے عوام آج خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں اور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔
آخر میں ارباب اختیار سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اس ناانصافی کا فوری خاتمہ کریں، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنائیں اور ذمہ دار افسران کو قرار واقعی سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی بھی سرکاری اہلکار عوام کے ساتھ اس قسم کی زیادتی کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

