اتوار, مارچ 15, 2026
ہوماہم خبریںپاکستان اور سعودیہ مسلم ممالک میں تصادم روکنے کیلئے مشترکہ طور پر...

پاکستان اور سعودیہ مسلم ممالک میں تصادم روکنے کیلئے مشترکہ طور پر سرگرم

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب جاری علاقائی کشیدگی کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور اسے مسلم ممالک کے درمیان تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔ 

یہ بات جدہ میں ہونے والی اعلیٰ سطح بات چیت سے واقف ذرائع نے بتائی، یہ مفاہمت جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے مختصر مگر اہم دورے کے دوران سامنے آئی۔ 

وزیر اعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی تھے، جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات اور بات چیت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ خطے کی موجودہ صورتحال فوری سفارتی کوششوں کی متقاضی ہے تاکہ کشیدگی میں اضافہ روکا جا سکے اور تنازعات کو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔

دونوں جانب سے اس مستقل پالیسی کا اعادہ بھی کیا گیا کہ مسلم دنیا کے اندر تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے اور ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے کہ صورتحال مسلم ممالک کے درمیان وسیع تصادم میں تبدیل نہ ہو۔مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے سعودی عرب کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ مملکت کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

حکام کے مطابق پاکستانی قیادت نے یہ بھی زور دیا کہ اسلام کے مقدس ترین مقامات کے محافظ کی حیثیت سے سعودی عرب کی خصوصی اہمیت ہے اور ان کی حفاظت پاکستان اور اس کی فوج کے لیے عزت اور ذمہ داری کا معاملہ ہے۔

ذرائع نے اس بات کی علامتی اہمیت کا بھی ذکر کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اجلاس میں جنگی یونیفارم پہن کر شریک ہوئے، جسے اس بات کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا کہ پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے عزم میں متحد ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ سعودی ولی عہد نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں ایک خصوصی عشائیہ دیا جس میں صرف وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک تھے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور خصوصی تعلقات کی عکاسی کے طور پر دیکھا گیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے اس دور میں دشمنی کم کرنا، مزید کشیدگی کو روکنا اور مسلم دنیا میں اتحاد کو فروغ دینا نہایت ضروری ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے