زہری: ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں گزشتہ چار روز سے مسلسل نافذ مکمل کرفیو کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ کرفیو اور رابطہ سڑکوں کی بندش نے شہری اور دور دراز دیہی علاقوں کے ہزاروں افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، جبکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں لوگوں کو سحری اور افطار کے انتظامات میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اہلیانِ زہری نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، آئی جی ایف سی اور کمشنر قلات ڈویژن سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار روز سے جاری مکمل کرفیو کے باعث حالات انتہائی سنگین شکل اختیار کر چکے ہیں۔ مسافر حضرات جو دیگر علاقوں سے عید منانے اپنے آبائی علاقہ زہری جانا چاہتے ہیں، انہیں گزشتہ کئی روز سے انجیرہ کراس سمیت مختلف مقامات پر روک دیا گیا ہے جس کے باعث سینکڑوں افراد پریشانی اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باعث گھروں میں موجود خوراک ختم ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے شیر خوار بچے بھوک سے بلک رہے ہیں اور بیمار افراد مناسب علاج اور ادویات نہ ملنے کی وجہ سے شدید اذیت کا شکار ہیں۔ مریضوں کو اسپتال تک منتقل کرنا بھی ممکن نہیں ہے، جس سے انسانی جانوں کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
رابطہ سڑکوں کی مکمل بندش کے باعث زہری کے تمام دیہی علاقے بھی عملاً کٹ کر رہ گئے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر دونوں جانب سینکڑوں افراد اور گاڑیاں پھنس چکی ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے بھی شامل ہیں۔ مسافروں کو نہ کھانے پینے کی مناسب سہولت میسر ہے نہ ان کے پاس پیسے ہیں اور نہ ہی انہیں آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
اہلیانِ زہری نے حکومت اور سیکورٹی اداروں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے عید کی آمد اور عوامی مشکلات کو مدِنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کرفیو میں فوری نرمی کی جائے تاکہ لوگ خوراک، ادویات اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا انتظام کر سکیں اور پھنسے ہوئے مسافر اپنے گھروں کو پہنچ سکیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکام بالا اگر زمینی حقائق اور عوام کی تکالیف کو محسوس کریں تو یقیناً فوری اقدامات کے ذریعے لوگوں کو اس کربناک صورتحال سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

