امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کرتے ہوئے تہران سمیت کئی شہریوں پر میزائل داغ دیے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکے ہوئے جہاں شمالی علاقوں میں میزائل داغے گئے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مشرق میں ایک دھماکا سنا گیا جبکہ شمالی علاقوں میں مزید دو دھماکے ہوئے، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترکہ حملہ ہے۔
غیر ملکی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا، اس کے علاوہ سیستان، اصفہان، قم، کرج اورکرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر خامنہ ای کےکمپاؤنڈ کے قریب 7میزائل گرے، حملوں میں کئی شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی ڈیل نہ ہونے پر ناراض تھے، ایران پر امریکی حملے فضا اور سمندر سےجاری ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد اب ایران کی جانب سےبھی اسرائیل پر حملہ کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہےکہ ایران کی جانب سے میزائل حملہ کیا گیا ہے، خطرے سے نمٹنےکے لیے دفاعی نظام آپریٹ کررہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہےکہ ایرانی میزائل اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب داغے گئے۔
اسرائیلی حکام کی ایرانی حملے کے بعد شہریوں کو شیلٹرز میں جانےکی ہدایت کردی ہے۔
اسرائیلی دفاعی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران میں اسرائیل کا آپریشن امریکا کے ساتھ مل کر جاری ہے، ایران پر آپریشن کا منصوبہ مہینوں پہلے بنایا گیا تھا، ایران پر حملے کی تاریخ کا فیصلہ ہفتوں پہلے کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں، آیت اللہ خامنہ ای کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے حملے کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، عراق نے بھی فضائی ٹریفک معطل کردی۔
ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کارروائی کی تیاری کررہاہے، ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا۔
سربراہ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہا۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی ایران پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے تہران پر حملہ کیا ہے، ایران پر پیشگی حملےشروع کیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کا بتانا ہے کہ متعددمیزائل تہران میں یونی ورسٹی روڈ اور جمہوری ایریا پرگرے، تہران میں دھویں کے بادل بھی اٹھتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھر میں اسکول بند کردیے گئے ہیں، عوام کو گھروں سے ہی کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، مقبوضہ بیت المقدس میں سائرن بجنے لگے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک پیشگی حملہ کیا تاکہ اسرائیل کے لیے خطرات کو ختم کیاجاسکے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قطر میں امریکی سفارتخانےکے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانےکی ہدایت کر دی گئی ہے اور امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگلے حکم تک شیلٹر میں رہیں۔
میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو پہلے ہی فوری طور پر ایران چھوڑ نے کی ہدایات جاری کردی تھیں۔ روس نے بھی موجودہ صورتحال میں ایران اور اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دیں۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کا ایران کیخلاف آپریشن کئی روز جاری رہ سکتا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ ہمارا مقصد ایرانی حکومت سے آنے والے خطرات کو ختم کرکے امریکی عوام کا دفاع کرنا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ کچھ دیر پہلے امریکی فوج نے ایران کےخلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، ایران جوہری ہتھیارنہیں رکھ سکتا، ہم ایران کے میزائل نظام اور میزائل انڈسٹری تباہ کردیں گے، ہم ایران کی بحریہ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا یقینی بنائیں گے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے، امریکا نے خطے میں امریکی اہلکاروں کے لیے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا ہے۔

