کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی جب نامعلوم مسلح افراد نے زرغون کنسٹرکشن کمپنی کے کرش پلانٹ (سنگ شکن پلانٹ) پر رات گئے شدید حملہ کر دیا۔
حملہ آوروں نے پہلے پلانٹ پر فائرنگ کی اور وہاں موجود موسیٰ خیل سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پلانٹ کے قریب قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا، جہاں موجود تین پولیس اہلکاروں سے سرکاری اسلحہ چھین لیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ یہ واقعہ ضلع بارکھان کے ایک دور دراز علاقے میں پیش آیا جہاں کمپنی روڈ کنسٹرکشن اور متعلقہ کاموں میں مصروف تھی۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پلانٹ پر شدید فائرنگ کی، جس سے مشینری کو جزوی نقصان پہنچا اور کام کا عمل معطل ہوگیا۔ اغوا ہونے والے تینوں مزدوروں کی شناخت موسیٰ خیل کے رہائشیوں کے طور پر ہوئی ہے، جو کمپنی میں روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ لیویز اور فرنٹیئر کور (FC) کی ٹیمیں بھی سرگرم ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اب تک اغوا شدگان کی بازیابی یا حملہ آوروں کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ بلوچستان میں تعمیراتی کمپنیوں، خاص طور پر روڈ اور انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس پر کام کرنے والے مزدوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف حالیہ واقعات کی ایک نئی کڑی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کا مقصد پروجیکٹس کو روکنا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہو سکتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک حرکت کی فوری اطلاع دیں۔ زرغون کنسٹرکشن کمپنی کے حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کی ہے اور متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ سے رابطہ کر رہے ہیں۔

