منگل, فروری 17, 2026
ہوماہم خبریںسیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا...

سیاست میں ایسا ہوتا ہے، برداشت نہیں کرسکتے تو مدر ٹریسا یا کرکٹ کے گاڈ بن جاتے: صدر زرداری کی پھر عمران پر تنقید

صدر آصف علی زرداری نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال میں ان کی آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، سیاست میں تو ایسا ہوتا ہے، اگر برداشت نہیں کر سکتے تو کوئی آسان کام کر لو۔

وہاڑی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کسانوں کی سہولت کی فراہمی وقت کا تقاضا ہے، زرعی شعبے کی بہتری سے ملک ترقی کرسکتا ہے، ملک میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، صرف تسلسل اور سوچ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے، جدید زرعی طریقوں کے فروغ میں ہے، پاکستان کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا ججز کی تنخواہیں میں نے تین گنا کر دیں، میں ہر کام سمجھ اور سوچ کر کرتا ہوں۔

صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، شہید بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو) نے علاقائی خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔

ان کا کہنا تھا حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے، سیاسی تعاون ا تنہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں درد ہے لیکن ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں، مکمل بہتر ہونےمیں وقت لگے گا، ہم سندھ اور بلوچستان تک محدود ہے، پنجاب میں ہماری حکومت نہیں ہے جبکہ کے پی کی اپنی الگ سوچ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے، ملک ان کو بنانا نہیں، لوگوں کا کام کرنا نہیں، کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا۔

عمران خان کا نام لیے بغیر صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا ملک ایک سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے، یہ ملک چار سال رک گیا تھا، اس شخص کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی، ہر ٹی وی پر اس کی تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہوجاتی تھیں۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آرہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہےکہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے 14 سال جیل کاٹی، اپنے بچوں سے جب ملا تو وہ مجھ سے قد میں بڑے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تکالیف تو آپ نے برداشت کرنی ہیں، یہ تو زندگی کا حصہ ہے، اگر نہیں برداشت کرسکتے تو کوئی اور آسان کام کرو نا! یہ کام کرنا ضروری ہے! تم مدر ٹیرسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبس بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، اگر سیاست ہے تو اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔

RELATED ARTICLES

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

سب سے زیادہ مقبول

حالیہ تبصرے