نیشنل پارٹی کی صوبائی خواتین سیکرٹری و رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ نے حکومت کی جانب سے گرینڈ الائنس کے پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنے، سیاسی رہنماؤں اور ملازمین کی گرفتاریوں کو غیر جمہوری اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے شیلنگ، گرفتاریوں اور دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس سے صوبے میں سیاسی اور سماجی فضا مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ملازمین اور احتجاج میں شرکت پر نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر رمضان ہزارہ کی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ، پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔،اس کو طاقت سے روکنا غیر جمہوری عمل ہےاس کی نیشنل پارٹی شدید مذمت کرتی ہے انہوں نے کہا کہ مچھ جیل میں منتقل کیے گئے گرفتار رہنماؤں اور ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں کلثوم نیاز بلوچ نے مطالبہ کیا کہ ڈی آر اے فوری طور پر ادا کی جائے ڈاکٹر رمضان ہزارہ سمیت تمام گرفتار سیاسی رہنماؤں اور ملازمین کو فی الفور رہا کیا جائے معطلی کے احکامات واپس لیے جائیں اور ملازمین کےجائز مطالبات بلا تاخیر تسلیم کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر جمہوری فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی

