وزیراعلی بلوچستان میر سرفرازبگٹی کی زیرصدارت صوبائی محکموں کی مجموعی ششماہی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور متعلقہ محکموں کی سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلی کو صوبائی سرکاری محکموں کی ششماہی کارکردگی ترقیاتی منصوبوں ششماہی کھلی کچریوں محکمانہ ترقیاتی اسکمیات پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کی گئیں۔
وزیراعلی نے ہدایت کی کہ تمام محکمے عملے کی حاضری یقینی بناتے ہوئے اپنے ترقیاتی منصوبوں کی مکمل اونرشپ لیں۔عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے موثر میکنزم تشکیل دیں اور شکایت سیل کو بھرپور انداز میں فعال کرکے اس کی عوامی سطح پر تشیر کی جائے۔ انہوں نے مفاد عامہ سے متعلق سمریوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے، صوبائی کنٹریکٹ پالیس کاڈرافٹ دوہفتوں میں پیش کرنے، محکمہ تعلیم میں کنٹریکچول بھرتیوں میں 100 فیصد میرٹ یقینی بنانے اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی بھی ہدایات دیں۔
وزیراعلی نے واضح کیا کہ تمام صوبائی محکمے مقررہ وقت کے اندر ترقیاتی اسکیمات کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے، بروقت تکمیل پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور جن اسکیمات پر اب تک پیش رفت نہیں ہوئی انہیں رواں مالی سال میں ہر صورت مکمل کیا جئے۔ انہوں نے منشیات کے عادی افراد کی مکمل بحالی کے لیے اقدامات تیز کرنے بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کرنے اور کہا کہ بلڈنگ کوڈز کی خلاف ورزی مختلف حادثات کا سبسب بنتی ہے۔
اجلاس میں ششماہی محکمانہ رینکنگ میں ٹاپ 10 کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکموں کے سیکرٹیریز میں وزیراعلی کی جانب سے تعریفی اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ وزیراعلی نے اس موقع پر کہ کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیی اچھی طرز حکمرانی ہے اور عوامی نوعیت کے تمام منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا حکومت کی ترجحیات میں سرفہرست ہے۔

