انسانی حقوق کےلیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کردیا۔
ایمان مزاری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے جیل ہی جانا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے اور کسی بھی کام پر ندامت یا پچھتاوا نہیں ہے۔
دوسری جانب ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ انہوں نے خود کو بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے لیڈران کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ ہم ان کے پاس موجود ہیں اور ان کے پاس ہی رہیں گے۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ جس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا ہے، وہ انہیں یہاں ہی گرفتار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوگواہوں پرجرح کیلئے 4دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہو گا۔

