ضلع شیرانی کو ضلع ژوب میں ضم کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ بلوچستان
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے جمعے کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں خاران میں پیش آنے والی بینک ڈکیتی سے متعلق پریس کانفرنس کے بعد غیر رسمی گفتگو کے دوران بتایا کہ ضلع شیرانی کی انتظامی حیثیت ختم کرکے اسے دوبارہ ضلع ژوب میں ضم کیا جا رہا ہے۔
جب میں نے اس فیصلے کی وجہ دریافت کی تو وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضلع شیرانی عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے، جہاں نہ کوئی قابلِ ذکر ترقیاتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں اور نہ ہی سرکاری افسران کی مؤثر موجودگی نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق انہی وجوہات کی بنیاد پر حکومت نے ضلع شیرانی کی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گفتگو کے دوران میں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ فیصلہ شیرانی کے عوام کے تحفظات کو نظرانداز کرکے کیسے کیا جا سکتا ہے، اور کم از کم اس حوالے سے مولانا محمد خان شیرانی سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔ اس پر وزیراعلیٰ نے جواب دیا کہ مولانا شیرانی ہمارے بزرگ ہیں اور میں ان کا احترام کرتا ہوں، تاہم ضلع شیرانی کے معاملے پر حکومت اپنا فیصلہ کر چکی ہے۔
اب یہ فیصلہ ضلع شیرانی کے عوام اور سیاسی قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ضلع کے مستقبل کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے کس حد تک جدوجہد کرتے ہیں۔

