نصیرآباد/ نوتال کے قریب اقلیتی وزیر کے ساتھ ڈکیتی کے واقعے کے بعد ایس ایچ او روشن علی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا،
جبکہ دوسری جانب نوتال کے مقام پر عوام اور ٹرانسپورٹرز آئے روز لوٹے جا رہے ہیں، مگر نہ تو کوئی نوٹس لیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی افسر کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
جب ایک رکنِ اسمبلی لُٹ جاتا ہے تو ایس ایچ او معطل ہو جاتا ہے، لیکن عام شہریوں کی جان و مال کی کوئی وقعت نہیں؟
یہ فارم 47 کی حکومت کا کیسا انوکھا اور دوہرا نظامِ انصاف ہے؟

