بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر راجی راہشون ایم پی اے واجہ میر اسد اللہ بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے ملازمین کے مطالبات تسلیم کئے جائے ڈی آر اے ملازمین کا حق ہے اس مہنگائی کی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر سال مہنگائی کی تناسب کو دیکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا لیکن بدقسمتی سے یہاں ملازمین کو ڈی آر اے کے لیے بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے جبکہ کسی بھی حکومت کے محکموں میں سرکاری ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور سرکاری ملازمین کے بغیر محکموں کی کارکردگی (صفر )ہوجاتی ہے بی این پی (عوامی) ہمیشہ ملازمین کے ساتھ رہی ہے ہم ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے کیونکہ ملازمین کا تعلق عوام سے ہے اور دنیا بھر میں عوام کی سہولت کے لئے ہی قانون بنائے جاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملازمین کے ساتھ گفت و شنید کی راہ اپناتے ہوئے ان کے سر پر دست شفقت رکھ کر انکے مطالبات تسلیم کئے جائیں اس طرح گرفتاریوں سے مسائل حل نہیں ہونگے ۔دی آر اے بلوچستان کے ملازمین کا حق ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے خواہ سرکاری ملازمین ہوزمیندار ہو ینگ ڈاکٹرز ہو یا پروفیسرز،لیکچر آر ز انکے ساتھ تیسرے درجے کا شہری کی طرح سلوک اپنایا جارہا ہے انکے حقوق انکو دیے نہیں جاتے جب یہ اپنے مطالبات کیلئے گفت و شنید کرتے ہیں تو انکے ساتھ ڈیلے ٹیکٹس پالیسی اپنائی جاتی ہے اور انکو تاریخ پہ تاریخ اور طفل تسلیاں دی جاتی ہیں اور آخر کار انکے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیاجاتا ہے اور جب یہ اپنے مطالبات کے حصول کیلئے احتجاج کا راستہ اپناتے ہیں تو کھبی ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے تو کھبی انکو گرفتارکر کے مچھ جیل منتقل کر کے انکو انکے مطالبات سے دستبردار کرانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے جو کہ جمہوری اور مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتی،اختلاف رائے،پر امن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ گرینڈ الائنس کے قائدین کیخلاف تادیبی کارروائیوں سے اجتناب کیا جائے اور انکے مسائل مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے حل کیئے جائیں۔

