کوئٹہ۔ پ ر۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کوئٹہ، محکمۂ صحت حکومتِ بلوچستان کی جانب سے گزشتہ دو برسوں سے جاری غیر قانونی، غیر آئینی اور انتقامی اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ سینئر ڈاکٹروں، بالخصوص ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (DHOs) اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (MSs) کو بغیر کسی تحریری وضاحت، قانونی جواز اور شفاف طریقۂ کار کے معطل کرنا کھلی زیادتی، پیشہ ورانہ تذلیل اور ادارہ جاتی تباہی کے مترادف ہے۔
یہ معطلیاں محض اس لیے کی جا رہی ہیں تاکہ ڈاکٹروں کو معزز سروس ٹربیونل اور عدالتوں سے رجوع کرنے سے روکا جا سکے اور ان کی عزت، وقار اور ساکھ کو مجروح کیا جائے۔ یہ عمل نہ صرف ڈاکٹروں کی کردار کشی ہے بلکہ ان کے کیریئر سے کھلا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اسی غیر منصفانہ اور آمرانہ طرزِ عمل کا سامنا ڈاکٹر عبدالغفار کیتھران (ڈی ایچ او موسیٰ خیل)، ڈاکٹر عبدالفتاح کھوسو (ایم ایس صحبت پور) اور متعدد دیگر معزز ڈی ایچ اوز و ایم ایسز کو بھی کرنا پڑا، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محکمۂ صحت مکمل طور پر ایڈہاک کلچر کی نذر ہو چکا ہے۔ سینئر اور تجربہ کار افسران کو دانستہ طور پر دیوار سے لگایا جا رہا ہے، جبکہ 90 فیصد سے زائد ڈی ڈی اوز قائم مقام یا اضافی چارج پر کام کر رہے ہیں، جو محکمۂ صحت کی تاریخ میں ایک سیاہ باب ہے۔ یہ صورتحال وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان کے اعلانات اور دعوؤں کی صریح نفی ہے۔
انتہا یہ ہے کہ بعض جونیئر ڈاکٹروں کو بیک وقت تین سے چار اہم عہدوں کے اضافی یا قائم مقام چارجز دے کر محکمۂ صحت کو یرغمال بنایا گیا ہے، تاکہ ان سے من پسند اور غیر قانونی فیصلے کروائے جا سکیں۔ یہ طرزِ عمل ناقص گورننس، اختیارات کے سنگین غلط استعمال اور ادارہ جاتی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔
پی ایم اے کوئٹہ واضح الفاظ میں خبردار کرتی ہے کہ یہ تمام اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور اب مزید برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ پی ایم اے کوئٹہ کے فوری مطالبات پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ مطالبہ کرتی ہے کہ ڈی ایچ اوز، ایم ایسز اور دیگر ڈاکٹروں کے تمام معطلی کے احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔قائم مقام اور اضافی چارج پر کام کرنے والے تمام افسران کو فی الفور ہٹایا جائے۔
ایک فرد کو دیے گئے تمام متعدد اضافی یا قائم مقام چارجز فوری طور پر ختم کیے جائیں۔محکمۂ صحت میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
پی ایم اے کوئٹہ محکمہ صحت کے ذمہ داران کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں متنبہ کرتی ہے کہ اگر 15 دن کے اندر اندر اس کے جائز، سنجیدہ اور مخلصانہ مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو پی ایم اے کوئٹہ صوبے کی دیگر ڈاکٹر تنظیموں اور ہیلتھ پروفیشنل ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت اور فیصلہ کن احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ صحت حکام پر عائد ہوگی۔پی ایم اے کوئٹہ ڈاکٹروں کی عزت، وقار اور پیشہ ورانہ خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

