ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں چھاپے کے دوران جھڑپ میں 13 جنگجو ہلاک اور پاسدارانِ انقلاب کا ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔
سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’13 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد کو گرفتار کر لیا گیا‘، یہ کارروائیاں سیستان بلوچستان میں ہوئیں، جہاں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ریاستی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے بعض جمعہ کو ایرانشہر میں ہونے والے اس حملے میں ملوث تھے جس میں 5 پولیس اہلکار مارے گئے تھے، ایرانشہر کے علاوہ خاش اور سراوان میں بھی سیکیورٹی آپریشنز کیے گئے۔
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر حسن مرتضوی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’آپریشن کے دوران بدقسمتی سے ہمارے ایک اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’ایک مغوی شہری کو بازیاب کرا کے اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا‘۔
سیستان بلوچستان طویل عرصے سے سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں، بشمول منشیات اسمگلرز اور علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے، سنی بلوچ اکثریتی آبادی پر مشتمل یہ صوبہ ایران کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
جیش العدل نے گزشتہ ہفتے کے پولیس پر حملے کی ذمہ داری ٹیلیگرام پر قبول کی تھی، ایران باقاعدگی سے اس صوبے میں پولیس اور پاسدارانِ انقلاب پر ہونے والے مہلک حملوں کی اطلاع دیتا ہے، جن کا الزام عموماً جیش العدل سمیت شدت پسند گروہوں پر عائد کیا جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے کے ہی روز ایرانی فورسز نے اسی صوبے میں ایک اور چھاپے کے دوران چھ جنگجو ہلاک کیے تھے۔

